فتنہ تکفیر
الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاءوالمرسلین
آج کل کے دور میں تکفیر کا فتنہ مسلمانوں کیلئے بہت نقصان کا باعث ثابت ہوا ہے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ ان حضرات کے پاس کون کون سے دلائل ہیں جن سے یہ اہل حق کو گمراہ کرنے کی جسارت کرتے ہیں ۔ جب بھی ایسا کوئی شخص آپ کو ملے گا تو جو فتنہ تکفیر کا شکار ہو چکا ہو وہ سب سے پہلے آپ سے الولا والبراءپر گفتگو کرے گا۔
(۱) الولاءو البراء:
ان حضرات کے ہاں امام کعبہ اور عبداللہ بن باز رحمۃ اللہ علیہ کافر ہیں کیوں کہ وہ ایک ایسی حکومت کے تحت ہیں جو کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کی حکومتوں کے ساتھ دوستی رکھتی ہیں ۔ اور وہ دلیل قران کی اس آیت سے دیں گے
ومن یتولھم منکم فانہ منھم
کہ جو کوئی تم مسلمانوں میں سے ان (کافروں ) سے دوستی لگائے گا وہ انہی میں سے ہے۔ تو سعودی حکمران کافر ہیں لہذا انکی حکمرانی میں رھنے والے علماءبھی کافر ہیں ۔
محترم بھائیو یہ انتہائی گمراہ کن بات ہے ۔ قران مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے واضح کافر ہونے کے لئے جو شرط رکھی ہے وہ سورة النحل کی آیت نمبر 106ہے۔ ترجمہ “جو کوئی ایمان لانے کے بعد کفر کرے، لیکن (وہ نہیں ) جس کواس پر مجبور کیا جائے اور اسکا دل (اسلام ) ایمان پر مطمئن ہو، اور اسکو کفر پر شرح صدر حاصل ہو تو اسکے لئے اللہ تبارک و تعالی کا غضب ہے اور اس کے لئے عذاب عظیم ہے ۔ “
محترم بھائیو اس آیت کی رو سے کافر وہ ہے جو کفر پر شرح صدر کے ساتھ قائم ہو اور یہ بندہ نہ تو کوئی عذر پیش کرے نہ ہی تاویل کرے نہ ہی مجبو کیا گیا ہو۔
مثال ایک شراب پینے والا آپکی اصلاح پر اعتراف جرم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کام غلط ہے تو ایسا شخص شرح صدر کے ساتھ شراب کو جائز قرار نہیں دے رہا۔ بلکہ وہ شخص جو کہ شراب پئےاور شرح صدر کے ساتھ یہ بات کہے کہ شراب پینا جائز ہے ان دونوں میں فرق ہے۔
لہذا کسی شخص کی بھی تکفیر کے لئے اس شخص کا شرح صدر کے ساتھ اس کفر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جب تک ایسے شخص کا موقف خو د سے دریافت نہ کیا جائے گا اور توبہ کروا لینے کے باوجود وہ کفر پر قائم رہے اس سے پہلے ہم اسکے بارے میں کوئی بات نہیں کہ سکتے اور نہ ہی کسی قسم کا حکم جاری کر سکتے ہیں ۔
اسلام میں کافروں کی دو اقسام ہیں
(1) کلمہ گو مشرک (2 ) واضح کافر (عیسائی، یہودی، ہندو وغیرہ)
لہذا دو قسمیں ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ رویہ بھی مختلف ہو گا جیسا کہ حضور ﷺنے منافقین (کلمہ گو کافر ) اور دوسرے کافروں کے ساتھ رکھا ۔
تکفیری حضرات ان دو گروہوں کے قائل نہیں وہ سب کو ایک ہی Catagory میں رکھتے ہیں تو چلیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا قران پاک میں اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا ” کیا تم نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنایا ہوا ہے ۔ “ اس آیت کی رو سے تو سارے مسلمان ہی کافر ہو سکتے ہیں اور تو اور اکثر اوقات تو یہ لوگ خود اس آیت کی رو سے کافر ٹھہرتے ہیں کیوں کہ بندہ کئی باتیں اپنے نفس کی مان کر ان پر عمل کرتا ہے۔ اور جب آپ یہ آیت ان حضرات کے سامنے پیش کریں گے تو ان کا جواب یہ ہو گا کہ اس آیت کی رو سے دو قسم کے لوگ ہیں۔
(1) ایک وہ جو نفس کی پیروی ہو جانے پر اس سے توبہ کرلیتے ہیں ۔
(2) دوسرے وہ جو کہ نفس کی پیروی پر مصر ہوتے ہیں اور اصلاح کے باوجود ہٹ دھرمی سے اللہ کے احکامات کی بجائے نفس کی مانتے ہیں۔
ان حضرات سے پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ ہمیں تو Catagories بنانے سے منع کر رھے ہیں اور خود دو قسمیں بنا رہے ہیں جب آپ پر آئی تو آنے کیوں راہ فرار کی روش اختیارکر لی ہے۔ان لوگوں کا اعتراض ہے کہ صرف کلمہ پڑھ لینا انسان کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ۔ لیکن ان حضرات کی یہ بات بھی صریحا غلط ہے کیوں کہ یہ کلمہ ہی کی برکات ہیں کہ اللہ تعالی نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال قرار دیاہے اور ان کی عورتوں سے نکاح کی بھی اجازت دی ہے۔مسلمان حکمرانوں کی مثال جنہون نے کفار کے ساتھ دوستی لگا رکھی ہے ان منافقین کی سی ہے نہ کہ حربی کافروں کی طرح مثال کے طور پر اللہ تعالی فرماتے ہیں سورة الحشر آیت نمبر 11 میں ترجمہ : ” کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو کہ منافق ہیں وہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم لوگ نکالے گئے ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے معاملے میں کسی کا کوئی کہنا نہ مانیں گے اور اگر تمہاری کسی سے لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اگر (بفرض محال ) انکی مدد بھی کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ۔ “
اللہ نے ایسے لوگوں کو منافق کہا ہے بھائیو منافق بھی کافر ہے لیکن اسکا دنیا میں کلمہ پڑھ لینا اس کو حربی کافر یا واجب القتل کافر بننے سے بچادیتا ہے۔
ہاں ایک بات یاد رہے کہ جب میدان جہاد گرم ہو اور پھر کوئی مسلمان کہلانے والا شخص کافروں کی صفوں سے نکل کر اہل اسلام پر حملہ کرے تو ایسا مسلمان کہلانے والا شخص بھی حربی کافر ہے اور اس کو قتل کیا جائے گا۔
اب چند مثالوں کے ساتھ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺکے زمانے میں منافقین کی (یعنی کلمہ گو ) جماعت کےساتھ کیسا سلوک کیا گیا۔عبداللہ بن ابی ایسا منافق تھا جس کے نفاق کو اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں بیان کیا بڑی بڑی اور اہم باتیں یہ تھیں کہ اس نے بنو نضیر قبیلے کے ساتھ حضور ﷺکو نعوذ باللہ شہید کرنے کی سازش کی۔ اللہ نے آپ کو عین اس وقت وحی کے ذریعے مطلع کر دیا جب وہ یہ کام کرنے ہی والے تھے ، دوسرا غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر عبداللہ بن ابی نے حضور ﷺکو نعوذباللہ ذلیل آدمی سے تشبیہ دی ، اور مہاجرین صحابہ کرام کو نعوذباللہ کتوں سے تشبیہ دی ، اور امہات المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگائی۔ یہ اتنے بڑے بڑے کفر ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تلوار نکال لی اور حضور ﷺسے کہا کہ مجھے اجازت دیں میں اس کو قتل کردوں،اور عبداللہ بن ابی کا اپنا بیٹاجو کہ صحابی رسول ﷺ تھا انہوں نے آپ ﷺسے کہا کہ جب آپ ﷺ میرے باپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنائیں تو یہ کام مجھے سونپ دیں ۔ محتم بھائیو اس موقع پر حضور ﷺکا جواب یہ تھا
” نہیں لوگ یہ کہیں گے کہ محمد ﷺاپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے ۔ “
اب میرے بھائیو غور طلب بات یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی کے اتنے بڑے بڑے کفریہ کاموں کا ارتکاب کرنے کے باوجود حضور ﷺ نے اسے اپنا ساتھی کہا اور اس کو قتل نہ کرنا وقت کی مصلحت تھی۔اور اسی بات کا اسلام کو فائدہ تھا ، لہذا اگر اج اسلام کے فائدے کیلئے مصلحت کے تحت مسلمانوں کے گمراہ فرقوں کو اپنے ساتھ چلانا تاکہ ان کے عقائد اور معاملات کی اصلاح ہو جائز ہے۔ اور اس کے نتائج بھی ہمارے سامنے آئے ہیں الحمدللہ لوگ صحیح عقیدے کو اپنا رہے ہیں ۔ اور کافروں کی مسلمانوں کو فرقہ بازی کی بھینٹ چڑھا کر آپس میں اپنی صلاحیتوں کو ضائع کروانے کی سازش ناکام ہو رہی ہے۔
دوسرا نقطہ جس پر یہ بات کرتے ہیں وہ ہے توحید فی الحکم۔
(2) توحید فی الحکم :
” ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاولئک ھم الکافرون “
اس آیت کی رو سے وہ سب لوگ کافر ہیں جو کہ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کیخلاف فیصلے کرتے ہیں اسی آیت کے ساتھ ملحقہ آیات میں اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں کہ ” ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاولئک ھم الظالمون “ کہ وہ لوگ ظالم (گناہ گار ) ہیں جو کہ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ان سے پوچھا جائے کہ” گناہ گار“ کون ہے اور” کافر یا مشرک“ کون ہے۔
اسکے علاوہ سورہ النساء آیت نمبر 60 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ
” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنو بما انزل الیک و ما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت و قد امروا ان یکفروا بہ و یرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعیدا “
”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعوی تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا اس پر ان کا ایمان ہے لیکن اوہ اپنے فیصلے طاغوت کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے۔
اسکے بعد اللہ تبارک و تعالی آیت نمبر 63سورة النساءمیں ان لوگوں کے ساتھ سلوک کا ذکر کرتے ہیں کہ
” اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم فاعرض عنھم و عظھم و فل لہم فی انفسہم قولا بلیغا “
”یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ ان کے دلوںکا بھیدخوب جانتا ہے پس آپ ان سے اعراض کریں اور ان کو نصیحت کرتے رہیں اور انہیں وہ بات کہیں جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو۔ “
ان آیات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ ہمیں سمجھانے کا حکم دے رہا ہے اور ان سے منہ موڑنے کا نہ کہ ان کے قتل کرنے کا۔لہذا یہ لوگ (حکمران وغیرہ) منافقین کی صف میں شامل کئے جائیں گے نہ کہ کافروں کی صف میں اور ان کی اصلاح کی جائے گی افسوس آج قرآن پاک کی اس آیت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اور اللہ کے اس حکم کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے یہ گمراہ کن گروہ اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کے تحت خود بھی تکفیر کا شکار ہو رہا ہے۔یعنی کیا یہ اللہ کے ہر حکم پر عمل کرتے ہیں کیا ان سے کبھی اللہ سے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی تو اس طرح یہ بھی اللہ کے حکم کی صریحا خلاف ورزی ہے اور اسی طرح نبی کریم جس بات سے منع کرگئے یہ لوگ اسی بات کو سر انجام دینے کے باوجود اپنے آپ کو حق پر ثابت کریں یہ کیسا انصاف ہے اللہ ہمیں حق بات سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔
اور منافقین کو قتل نہ کرنے کی ایک دلیل مسند احمد کی حدیث ہے جس میں صحابہ کرام نے اللہ کے نبی ﷺسے کہا کہ منافق لوگ کفریہ کام کر رہے ہیں ہمیں اجازت دیں کہ ہم ان کاصفایا کر دیں آپ ﷺنے فرمایا ” اولئک نھانی اللہ عنھم “ کہ یہ (منافقین) وہ لوگ ہیں جن کو قتل کرنے سے اللہ تبارک وتعالی نے مجھے منع کیا ہے۔
محترم بھائیو اس گمراہ کن فرقہ نے جو سب سے بڑی غلطی کھائی وہ یہ ہے کہ ان میں اصلاحی پہلو منقود ہے قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں ۔ ” اے نبی ﷺلوگوں کو اللہ کے رستے کی طرف دانائی اور بہترین حکمت عملی کے ذریعے بلاؤ اور ان کے ساتھ احسن انداز میں گفتگو کرو۔ “ سورة الاعراف آیت نمبر 138
حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ایک میدان سے گزرے تو قوم نے دیکھا کہ لوگ بت کی عبادت کر رہے ہیں تو انہوں نے آپ سے علیہ السلام سے کہا کہ اے موسی ہمارے لئے بھی کوئی بت معبود مقرر کردیں جس طرح ان لوگوں کا بت ہے تو حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے جو بات کہی قرآن نے اس کو یوں نقل کیا ہے ” انکم قوم تجھلون “بے شک تم جاہل قوم ہوحضرت موسی علیہ السلام نے تکفیر کرنے کی بجائے ان کو جاہل کہا ۔ آج بھی لوگ جہالت کی وجہ سے درباروں ، قبور اور فوت شدہ لوگوں سے ہر قسم کی مدد مانگتے ہیں ہمارا فرض انکی اصلاح ہے نہ ان کی تکفیر کرکے ان کے لئے فتنہ بنیں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللھم لا تجعل فتنة للقوم الظلمین
اسی طرح ایک دفعہ آنحضرت ﷺکے ساتھ نئے ایمان لانے والے صحابہ موجود تھے انہوں نے حضور ﷺسے کہا کہ ” اجعل لنا ذات الانواط “ تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے موسی علیہ السلام کی قوم والی بات کہی ہے۔ حضور ﷺ نے اصلاحی انداز اختیار کیا۔ اسی طرح طائف کے لوگ جب فتح مکہ کے بعد حضور ﷺکے پاس ایمان لانے اور بیعت کرنے کیلئے آئے تو انہوں نے جملہ عبادات پر عمل نہ کرنے کا اظہار کیا حضور ﷺنے نماز کے علاوہ مصلحت کے تحت وقتی طور پر تمام فرائض چھوڑنے کی اجازت دے دی کہ وہ لوگ آہستہ آہستہ خود اسلام میں اگے بڑھنے پر ان کو اختیار کر لیں گے اور جب انھوں نے کہا کہ ہم نماز ادا نہیں کریں گے تو آپ ﷺنے ان کی اصلاح اس طرح کی کہ ” لاخیر فی دین لاصلاة فیھا “ اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہیں۔
محترم بھائیو ان واقعات میں غور طلب بات یہ ہے کہ موسی علیہ السلام کی قوم ان سے اللہ کی جگہ ایک اور الہ مقرر کرنے کا کہ رہی ہے یہ واضح شرک ہے اسی طرح نبی ﷺکے نئے ایمان لانے والے صحابہ بھی اسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن مسلمان کی تکفیر کی بجائے اصلاح کی جا رہی ہے۔
ان بھائیوں کا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ آپ لوگ اپنے ملک میں ان درباروں کو کیوں نہیں توڑتے یہ اللہ کی بغاوت کے اڈے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اللہ کی بغاوت کے اڈے ہیں لیکن قرآن مصلحت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایسے واقعات پاکستان میں ہوئے ہیں کہ درباروں کو ڈھایا گیا لیکن اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اھل شرک و بدعت نے ان مقامات کو پہلے سے زیادہ بھرپور انداز میں آباد کیا۔
اللہ تبارک وتعالی نے ہمارے لئے حضرت ابراہیم کی زندگی کو قرآن میں نمونہ قرار دیا ہے۔آپ امام الموحدین تھے، انکی زندگی کا ایک اہم واقعہ جب کہ انکی قوم میلے پر گئی ہوئی تھی آپ نے جا کر تمام بت توڑے اور ایک سب سے بڑے بت کو چھوڑ کر اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا ۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس بت کو بھی توڑ دیتے لیکن انہوں نے مصلحت اور قوم کو سمجھانے کی خاطر ایسا نہ کیا اور جب قوم واپس آئی تو انھوں نے ابراھیم علیہ السلام سے دریافت کیا اور کہا کہ یہ آپ کا کام ہو سکتا ہے۔تو آپ نے جواب دیا کہ اس بڑے بت سے پوچھو جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے۔ قوم والے کہنے لگے کہ یہ نہ تو بولتے ہیں نہ تو سنتے ہیں اور نہ ہی حرکت کر سکتے ہیں۔ یہی چیز حضرت ابراھیم علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھانا چاہتے تھے کہ بت ہمارے کسی طرح سے بھی ہمارے معبود نہیں ہو سکتے لہذا بات سمجھ میں آئی کہ کبھی کبھی بت نہ توڑنے میں بھی اللہ کے دین کا فائدہ ہو سکتا ہے۔
مسلمان حکمرانوں کی تکفیر :
رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں
” من قاتل لتکون کلمة اللہ ھی العلیاءفھو فی سبیل اللہ “ جو شخص اس وجہ سے لڑے کہ اللہ کا دین دنیا میں سربلند ہو تو وہ شخص اللہ کے راستے میں (جہاد کر رہا) ہے۔
لہذا محترم بھائیو ہمیشہ جب بھی کوئی قدم اٹھانا جائے تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ہمارے ایسے اقدام سے اسلام کو فائدہ ہو رہا ہے یا کفر کو۔۔
مسلمان حکمرانوں کے خلاف خروج کرنے سے اسلامی جماعتوں نے تاریخ میں نقصان اٹھایا ہے ۔ مصر میں اخوان المسلمون جو کہ ایک دینی جماعت تھی اس نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے تھے لیکن جب وہ تکفیریت کا شکار ہوئے اور حکومت سے ٹکر لی تو نتیجہ یہ ہوا کہ تنظیم کے تمام افراد حکومت کی قید میں چلے گئے کئی حکومتی بندے مرے اور کئی اخوانی مارے گئے۔ اور مصر میں اسلامی جماعتوں پر سخت پابندی لگ گئی اور ان پر کڑی نظر رکھی جانے لگی حتی کہ داڑھی پر پابندی لگا دی گئی ، نتیجہ حاصل یہ کہ اسلام کا سخت نقصان ہوا اور آج تک اسکی تلافی نہ کی جاسکی ۔
یہی تاریخ الجزائر میں اسلامی جماعتوں نے دہرائی نتائج اسی پر منتج ہوا کہ مجاھدین پر پابندیاں لگ گئیں اور اسکے بعد اب تک کوئی دینی جماعت اب تک کھڑی نہ ہو سکی۔ سعودیہ کے اندر مجاھدین پر جملہ سختیاں بھی اسی وجہ سے آئیں۔ حکومت کی تکفیر کی گئی اور ان کو قتل کرنے کا فتوی دیا گیا ۔ نتیجہ حکومت نے اپنے تحفظ کے طور پر جہاد اور مجاھدین کا Setup ختم کردیا۔ نتیجہ یہی کہ اسلام کا نقصان اور کافروں (امریکہ ، اسرائیل ) کو فائدہ حاصل ہوا۔
آج حکومتیں مسلمان مجاھدین کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر رہی ہیں ۔ یقینا یہ بڑا جرم ہے اور حرام کام ہے۔ کسی بھی مسلمان کو کسی طرح بھی غیر مسلم کے ہاتھ نہیں دیا جا سکتا۔ اب یہاں دیکھنا یہ ہے کہ آیا ایسے واقعات پہلے تاریخ میں بھی ہوئے اور اگر ہوئے تو سلف صالحین نے ایسے مواقع پر حکومت وقت کے خلاف کیا موقف اختیار کیا ، کیا ان پر کفر کا فتوی لگایا ان کے خلاف خروج کیا یا حکمت عملی اپنا کر حکومت وقت سے ساتھ ٹکر نہ لی اور یوں ملت اسلامیہ کو بڑی ٹکر اور اور پھوٹ سے بچالیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام میں خوارج نے انکے گھر کا گھیراو ¾ کر لیااور یہ معلوم تھا کہ وہ آپ کو قتل کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ آپ کے پاس کئی صحابہ آئے اور آپ سے اجازت چاہی کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم ان کے خلاف لڑیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ صاحبِ بصیرت تھے وہ جانتے تھے کہ اجازت دینے سے مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں گےاسلام کمزور ہو گا اور کافر قوتیں طاقت پکڑیں گی۔ لہذا انہوں نے لڑائی سے منع کر دیا اور اپنی شہادت پیش کرکے امت مسلم کو ایک بڑے تصادم سے بچالیا۔
اسی طرح خلیفہ سلیمان بن الملک نے قتیبہ بن مسلم کو قتل کیا اسکے بعد محمد بن قاسم کو برصغیر سے واپس بلایا محمد بن قاسم کو قتل کی خبر پہنچ چکی تھی اور وہ یہ جانتے تھے کہ خلیفہ ان کے خلاف کیا کرنے والا ہے۔ کئی لوگوں نے ان سے کہا کہ ہم آپ کےساتھ مل کر خلیفہ کے خلاف لڑیں گے لیکن محمد ابن قاسم نے اجازت نہ دی اور آپ بھی قید میں ڈال دئیے گئے ۔ اسلام کے ان عظیم سپہ سالاروں کو شہید کرنے کے باوجود سلف صالحین نے سلمان بن الملک کو کافر قرار نہیں دیا۔
اسی طرح حجاج بن یوسف نے صحابی رسول ﷺعبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کروایا لیکن تاریخ میں کبھی اسکی تکفیر نہیں کی گئی۔ اور امام مالک جو امام مدینہ کے نام سے مشہور تھے اور مسجد نبوی میں منبر رسول ﷺپردرس حدیث دیا کرتے تھے ۔ جبری طلاق کے مسئلے پر خلیفہ سے اختلاف ہوا تو خلیفہ نے انکے صحیح موقف کو نہ صرف قبول نہ کیا بلکہ اپنے موقف کی تائید کیلئے آپ پر ظلم و ستم ڈھایا حتی کہ آپ کے دونوں بازو توڑ دئے گئے ،لیکن آپ اس اذیت کے باوجود صحیح موقف پر قائم رہے اور خلیفہ کو سمجھاتے رہے۔ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بھی خلق قرآن کے مسئلے پر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے اور خلیفہ وقت کو مسئلہ سمجھاتے رہے اور اسکی اصلاح کی کوشش میں لگے رہے، لہذا ہمیں بھی امام مالک کی طرح حاکم وقت کی اصلاح کرنی چاہیے اسے احساس جرم دلانا چاہیے اور تصادم کے ذریعے اسلام کو نقصان پہنچانے سے بچنا چاہیے۔یہ چند ایک واقعات ہیں ہمےںسلف صالحین کا جابر اور ظالم حکمرانوں کے ساتھ اپنائے گئے طرزعمل کا علم ہوتا ہے ۔لہذا پاکستان جو دنیا بھر میں مجاہدین کا آخری مسکن ہے اگر وہاں بھی اصلاح کے نام پر غلط روش اختیار کی گئی تو یہ آخری پناہ گاہ بھی ختم ہو جائے گی ۔
Showing posts with label عقائد و ایمانیات. Show all posts
Showing posts with label عقائد و ایمانیات. Show all posts
6/09/2011
فتنہ تکفیر
6/08/2011
وقت کے احکام
وقت کے احکام
اذان اور نماز کے درمیانی وقت کے احکام
(١)اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :''لایردالدعاء بین الاذان والاقامۃ''اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ک جاتی۔(ابوداؤد:٥٢١،ترمذی:٢١� �)
چنانچہ اس وقت باتیں کرنے کی بجائے دعا کرنی چاہیے کیونکہ یہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔
(٢)اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقت ہونا چاہیے؟
اس کی تعیین میں کوئی صحیح مرفوع متصل حدیث تو نہیں ملی مگر امام شعبہ فرماتے ہیں کہ:''اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقت ہونا چاہیے۔''(بخاری:بعدح٦٢٥ تلیقا بالجزم)
یہ بات یاد رہے کہ اذ ان سے تو نما ز کے وقت کی اطلاع دینا مقصود ہے اب اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقت تو ہونا چاہیے جس میں اذان سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں سے آسکیں ،اگر کسی کو ضرورت ہو اس نے استنجا بھی کرنا ہے ، اسی طرح وضو بھی کرنا ہے،نماز سے پہلے کی دو ،چار رکعتیں بھی پڑھنی ہیں،اوراگر کوئی دعا بھی کرنا چاہے تو وہ بھی کر سکے ۔اتنا وقت تو ہونا چاہیے کہ جس میں مذکورہ کام ممکن ہو سکیں۔اگر مقتدی جلدی آگئے ہیں تو اما م کو جماعت جلدی کروا دینی چاہیے۔اتنا زیادہ وقت بھی نہیں ہونا چاہیے کہ جس سے نماز کااول وقت ہی فوت جائے۔
تنبیہ:وہ حدیث جس میں آتا ہے کہ :''اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ کرو جتنے میں کوئی کھانے والا اپنے کھانے سے فارغ ہو سکے۔'' (ترمذی:١٩٥،یہ ضعیف ہے۔دیکھئے ،فتح الباری:٢/١٣٦)
(٣)صبح کی اذان اور پہلی اذان کے درمیان کتنا وقت ہونا چاہیے؟
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ:''دونو ں اذانوں کا درمیانی وقت اتنا تھا کہ ایک (مؤذن )نیچے اترتا تو دوسرا (اذان کے)لیے چڑھتا۔''(بخاری:١٩١٨)
حافظ عبدالمنان نورپوری حفظہ لکھتے ہیں :''یہ رات والی اذان فجر کی اذان سے پہلے کہی جاتی تھی ۔منٹوں ،گھنٹوں میں اس وقفے کی تعیین کہیں وارد نہیں ہوئی۔''(احکام ومسائل:١/١٧١)
سحری اور اذان کے درمیان کتنا وقت ہونا چاہیے؟
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیاکہ اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقت تھا؟تو انھوں نے جواب دیا:''پچاس آیات پڑھنے کی مقدار کے برابر۔''(بخاری:١٩٢١) یا ساٹھ آیات کی مقدار کے برابر(بخاری:٥٧٥)
سحری کا وقت:
سحری کا آخری وقت صبح صادق کے خوب نمایاں ہو جانے سے ہوتا ہے۔(بخاری:١٩١٦،مسلم:١٠٩٠)
نمازوں کے اوقات کے احکام:
اس میں دو بحثیں ہیں
(١)فرضی نمازوں کے اوقات
(٢)نفلی نمازوں کے اوقات
فرضی نما زوں کے اوقات:
نماز فجر:
اس کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہے۔(مسلم:٦١٢)
امام ابن المنذر فرماتے ہیں کہ:''اجماع ہے کہ نماز فجر کا وقت طلوع فجر(صبح صادق)ہے۔''(کتاب الاجماع:رقم٣٦)
نماز فجر اس وقت پڑھنی چاہیے جب فجر(صبح صادق)پھوٹتی ہے اور آدمی اپنے ساتھ والے کونہ پہچان سکے۔(مسلم:٤١٦)
یہ نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہیے۔(بخاری:٥٦٠،مسلم:٦٤٦)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ایک مرتبہ اندھیرے میں پڑھی پھر دوسری مرتبہ روشن کر کے پڑھی پھر وفات تک آپ کی نمازاندھیرے میں ہی رہی آپ نے دوبارہ کبھی اسے روشن کر کے نہ پڑھ۔''(ابوداؤد:٣٩٤،صحیح ابن خزیمہ:٣٥٢)
جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے اگر ایک رکعت پالی تواس نے تو اس نے نماز پالی۔(بخاری:٥٧٩،مسلم،٦٠٨)
نماز فجر کا آخری وقت یہ ہے۔یہ نماز روشن کر کے پڑھی جائے۔(مسلم:٦١٣)
ویسے تو یہ نماز طلوع آفتاب تک پڑھنی جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ اول وقت پڑھی جائے۔
نماز ظہر:
اس کا وقت سورج ڈھلنے شروع ہوتا ہے اور ایک مثل تک رہتا ہے۔(مسلم:٦١٣)
اس بات پر اجماع ہے کہ ظہر کا وقت زوال کے فورا بعد شروع ہو جاتا ہے۔(الافصاح لابن ہبیرہ:١/٧٢)
گرمیوں میں ذرا دیر سے ٹھنڈی کر کے پڑھنی چاہیے۔(بخاری:٥٣٦،مسلم:٦١٥)
اس کو اچھی طرح ٹھنڈی کر کے پڑھنا اس کا آخری وقت ہے۔(مسلم:٦١٣)
ویسے تو یہ نماز ایک مثل تک پڑھنی جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ اول وقت پڑھی جائے۔
زوال کا وقت یا مثل اول معلوم کرنے کا طریقہ:
حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ لکھتے ہیں:''زوال کا وقت معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی روز سورج طلوع ہونے سے تھوڑی دیر بعد تقریبا ایک فٹ زمین یا مکان کی سطح لیبل کے ساتھ ہموار کر لیںپھر تین چار انچ پرکار کھول کر اس سطح پر ایک دائرہ بنا لیں اس کے بعد دائرہ کے قطب (مرکزی نقطہ)پر تین انچ لمبا ایک دو سوتر موٹا سریہ یا اس کے مساوی لکڑی گاڑدیں بایں طور کہ وہ شاکول(سایل) کے ساتھ سیدھے ہوں شروع شروع میں اس سریے یا لکڑی کا سایہ بطرف مغرب دائرہ سے باہر ہو گا،جب وہ سایہ سمٹتے سمٹتے دائرہ کی لکیر پر ٹھک برابر ہو جائے تو وہاں (مدخل ظل در دائرہ)پر نشان لگا لیں پھر سایہ کی دائرہ سے بجانب مشرق نکلنے کا انتظر کریں جب سایہ بڑھتے بڑھتے دائرہ کی لکیر پر پہنچیے تو وہاں بھی(مخرج ظل از دائرہ)پر نشان لگا دیں اس کے بعد جنوبا و شمالا ایک خط کھنچیں بایں طور کہ وہ شمالی محیط دائرہ سے شروع ہو کر مدخل اور مخرج کے عین وسط والے نقطہ سے گزرتا ہوا مرکز دائرہ کے نقطہ پر ہوتا ہوا دوسری جانب والے محیط جنوبی پر ختم ہو اور دائرہ کی تنصیف کر دے یہ خط خطِ نصف النہار کہلاتا ہے۔یہ عمل ایک دن میں ہوگا ۔
اب دوسرے دن ساڑے گیارہ بجے کے قریب اس دائرہ کے پاس بیٹھ جائیں جب دائرہ کے مرکز میں نصب شدہ سریے یا لکڑی کا سایہ خطِ نصف النھار پر پہنچ جائے تو سایہ کے آخری سریے پر خطِ نصف النھار میں نشان لگا دیں ۔یہ وقت وقتِ زوال ہے اور خط نصف النھار میں نشان سے لے کر سریے یا لکڑی کی جڑ تک یا مرکز دائرہ تک سایہ فئے زوال کی پیمائش کر لیں اب سایہ جونہی خطِ نصف النھار سے بجانب مشرق بڑھنا شروع ہو گا ،ظہر کا وقت شروع ہو جائے گا اور بڑھتے بڑھتے جب سایہ سریے یا لکڑی کی پیمائش جمع فئے زوال کی پیمائش کے برابر ہو جائے گا تو ظہر کا وقت ختم اور عصر کا وقت شروع ہو جائے گا اور اس وقت سایہ ایک مثل ہو گا کیونکہ ایک مثل فئے زوال کو نکا ل کر ہے۔''(احکام و مسائل:١/١١٧)
یا کسی کھلی اور ہموار زمین میں زوال سے پہلے ایک لکڑی گاڑ دی جائے اس لکڑی کا سایہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گا یہاں تک کہ زوال کاوقت کم سے کم رہ جائے گا اس سائے کو ماپ لیا جائے جب یہ سایہ بڑھنا شروع ہو تو وہ اس بات کی علامت ہے کہ زوال ہو گیا ہے پھر جب یہ سایہ اس قدر بڑھ جائے کہ لکڑی کے برابر ہو جائے (زوال کے وقت لکڑی کا ماپا ہوا سایہ اس سے وضع کرنے کے بعد)تو ایک مثل وقت ہو جائے گا اور جب دو گنا ہو جائے تو دو مثل ہو جائے گا۔(فقہ السنۃ:١/١١٥)
تنبیہ:زوال کا سایہ مثل میں شمار نہیں ہو گا ۔یہی بات امام ابن تیمیہ کے فتاوی(٢٢/٧٤)فقہ حنفی کی کتاب الھدایہ(١/٤)فقہ شافعی کی المجموع(٣/٨١)فقہ حنبلی کی الروض المربع(١/٤٢)وغیرہ میں موجود ہے ،الغرض یہ بات اتفاقی ہے کہ زوال کا سایہ نکال کر مثل پیمائش ہو گی ۔کذا فی (آپ کے مسائل اور ان کا حل للشیخ مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ:٣/١١٣۔١١٤)
نماز عصر:
اس کا وقت ایک مثل سے شروع ہوتا ہے
(الترمذی:١٤٩وقال :حدیث ابن عباس حدیث حسن،استاذ محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:''اس کی سند حسن ہے،اسے ابن خزیمہ(ح٣٥٢)،ابن حبان(ح٢٧٩)،ابن الجارود(ح١٤٩)،الحاکم(١/١٩٣)،ابن عبد البر ،ابوبکر بن العربی،النووی وغیرھم نے صحیح کہا ہے۔''(نیل المقصودفی التعلیق علی سنن ابی داؤد:ح٣٩٣)امام بغوی اور نیموی حنفی نے حسن کہا ہے۔(آثار السنن ص٨٩ح١٩٤)کذا فی (ہدیۃ المسلمین :ص٢٥)
اور سورج کے زرد ہونے تک رہتا ہے۔(مسلم:٦١٢)
اس کا آخری دو مثل تک ہے ۔(صحیح الترمذی:١٢٧،١٢٨)
ویسے تو یہ نماز سورج کے زرد ہونے تک پڑھنی جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ اس کو اول وقت پڑھا جائے۔
جس نے نماز عصر کی ایک رکعت پالی اس نے مکمل نماز پالی(بخاری:٥٧٩،مسلم:٦٠٨)
نماز مغرب:
اس کا وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔(بخاری:٥٦١،مسلم:٦٣٦)
ااور شفق کے غائب ہونے تک رہتا ہے ۔(مسلم:٦١٢)
نماز عشاء
شفق غائب ہوتے نماز عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔(مسلم:٦١٣)
اور آدھی رات تک رہتا ہے۔(مسلم:٦١٢)
اس نماز کو تاخیر سے پڑھنا افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو تاخیر سے پڑھنا پسند کرتے تھے(بخاری:٥٤٧،مسلم:٦٤٧)
تنبیہ:اول وقت نماز کی فضیلت۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل افضل ہے ؟آپ نے فرمایا:''اول وقت پر نماز پڑھنا۔''(صحیح ابن خزیمہ:٣٢٧،صحیح ابن حبان:٢٨٠۔الموارد اسے حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے(المستدرک:١/١٨٨،١٨٩ح٦٧٥)
تاخیر سے نماز پڑھنا منافق کا عمل ہے ۔(مسلم:٦٢٢)
یاد رہے کہ تمام نمازوں کو اول وقت پڑھنا افضل ہے لیکن نماز عشاء کو تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔
نماز جمعہ:
اس کا وقت یہ کہ جب سورج ڈھل جائے تو اس وقت یہ نماز پڑھی جائے۔(بخاری :٩٠٤)
اس کو سردیوں میں جلد اور سخت گرمی میں دیر سے پڑھنا چاہیے۔(بخاری:٩٠٦)
نماز عیدین:
ان کا وقت چاشت کا وقت ہے ۔سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عید الفطر کے دن نماز کے لیے گئے ۔امام نے نماز میں تاخیر کر دی تو وہ فرمانے لگے کہ:''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اس وقت نماز سے فارغ ہو چکے ہوتے تھے ،راوی کہتا ہے کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔''(ابوداؤد:١١٣٥اسے حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے)
فوت شدہ نماز کا وقت:
جو شخص نماز پڑھنی بھول جائے (یا سو جائے)پس اس کا کفارہ یہ ہے جس وقت اسے یاد آئے (یا بیدار ہو)تو اس فوت شدہ نماز کو پڑھ لے(بخاری:٥٩٧،مسلم:٦٨٤)
نفلی نمازوں کے اوقات:
نماز استسقاء کا وقت:
اس کا وقت یہ ہے کہ سورج نکلتے ہی اس کو ادا کیا جائے۔(ابو داؤد:١١٧٣اسے حاکم(المستدرک:١/٢٦٨)ابن حبان(ح٦٠٤)اور ذہبی نے صحیح کہا ہے۔)
فائدہ:نماز استسقاء اس وقت پڑھی جاتی ہے جب قحط سالی ہو مینہ نہ برسے تو اللہ تعالی سے بارش طلب کرنے کے لیے یہ نماز (جس کا خاص طریقہ ہے )پڑھی جاتی ہے۔
نماز اشراق:وہ نماز جو طلوع آفتاب کے بعد ادا کی جاتی ہے اور یہی اس کا وقت ہے ۔
نماز چاشت:اس وقت یہ نماز پڑھی جائے جب شدتِ گرمی کی وجہ سے اونٹنی کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں ۔(مسلم:٧٤٨)
یاد رہے نماز چاشت اور نما ز اوابین ایک ہی ہیں۔
نمازوتر:
رات کے تمام حصوں میں نماز وتر پڑھنی مسنون ہے آخری وقت سحری تک ہے۔(بخاری:٩٩٦،مسلم:٧٤٥)
اس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔(ابوداؤد:١٤١٨، صححہ الالبانی ،الصحیحہ:١٠٨)
امام ابن المنذر فرماتے ہیں کہ :''اجماع ہے کہ عشاء اور طلوع فجر کے درمیان کا سارا وقت وتر کا وقت ہے۔''(کتاب الاجماع:رقم٧٦)رات کی آخری نماز وتر ہونی چاہیے(بخاری:٩٩٨،مسلم:٧٥١)جس کو یہ خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں ہی(یعنی نما ز عشاء کے بعد)وتر پڑھ لے اور جسے یہ توقع ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو جائے گاتو اسے چاہیے کہرات کے آخری حصے میں ہی وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ افضل ہے۔(مسلم:٧٥٥)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وتر سونے سے پہلے پڑھنے کی وصیت کی تھی۔(بخاری:١٩٨١،مسلم٧٢١)
وہ اوقات جن میں نماز پڑھنی منع ہے:
تین اوقات ایسے ہیں جن میں نماز پڑھنی منع ہے۔
ّ(١)جب سورج طلوع ہو رہا ہو حتی کہ وہ بلند ہو جائے۔(٢)جب سورج نصف آسمان پر ہو حتی کہ وہ ڈھل جائے۔(٣)جب سورج غروب ہونا شروع ہو جائے۔[٩] [٩](مسلم:٨٣١)
فائدہ:انھیں تین وقتوں میں مردوں کی تدفین بھی منع ہے [١٠] (مسلم:٨٣١)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ :''صبح کی نماز (کی ادائیگی )کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی (دوسری)نماز(جائز )نہیںاور نماز عصر (کی ادائیگی )کے بعد غروبِ آفتاب تک کوئی دوسری نماز جائز نہیں۔''[١١][١١](بخاری:٥٨٦،مسلم:٨٢٧)یاد رہے صبح کی نماز کے بعد دو رکعت کا پڑھناجائز ہے اگر آدمی پہلے نہ پڑھ سکا ہو۔(ترمذی:٤٢٢،ابوداؤد:١٢٦٧ اس کو ترمذی نے اور ابن خزیمہ(٦١١١)نے صحیح کہا ہے)اسی طرح نماز عصر کی ادائیگی کے بعد جو نماز پڑھنا منع ہے وہ سورج کے بلند ہونے کی صورت میں جائز ہے(ابوداؤد:١٢٧٤ صححہ الالبانی)یعنی سورج کے بلند ہونے تک کوئی نماز مثلا دو نفل،نماز جنازہ،فوت شدہ یا بھولی ہوئی نمازپڑھنا درست ہے۔لیکن جب سورج غروب ہو رہا ہو اس وقت جائز نہیں ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ :''صبح کی نماز (کی ادائیگی )کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی (دوسری)نماز(جائز )نہیںاور نماز عصر (کی ادائیگی )کے بعد غروبِ آفتاب تک کوئی دوسری نماز جائز نہیں۔''[١١][١١](بخاری:٥٨٦،مسلم:٨٢٧)یاد رہے صبح کی نماز کے بعد دو رکعت کا پڑھناجائز ہے اگر آدمی پہلے نہ پڑھ سکا ہو۔(ترمذی:٤٢٢،ابوداؤد:١٢٦٧ اس کو ترمذی نے اور ابن خزیمہ(٦١١١)نے صحیح کہا ہے)اسی طرح نماز عصر کی ادائیگی کے بعد جو نماز پڑھنا منع ہے وہ سورج کے بلند ہونے کی صورت میں جائز ہے(ابوداؤد:١٢٧٤ صححہ الالبانی)یعنی سورج کے بلند ہونے تک کوئی نماز مثلا دو نفل،نماز جنازہ،فوت شدہ یا بھولی ہوئی نمازپڑھنا درست ہے۔لیکن جب سورج غروب ہو رہا ہو اس وقت جائز نہیں ہے۔
جمعہ کے دن ممنوعہ اوقات میں سے نصف النھار کے وقت نماز پڑھنا درست ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :''جو شخص جمعہ کو نہائے اور جس قدر پاکی حاصل ہو سکے کرے پھر تیل یا اپنے گھر سے خوشبو لگائےاور مسجد کو جائے دو آدمیوں کے درمیان راستہ نہ بنائے پھر اپنے مقدر کی نماز پڑھے پھر دوران خطبہ خاموش رہے تو اس کے گزشتہ جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔''(بخاری:٨٨٣،نیز دیکھیںمسلم:٨٥٧)حافظ ابن قیم فرماتے ہیںکہ:''جمعہ کے دن زوال کے وقت (نصف النھار)نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے...اور وہ ہمارے شیخ ابن تیمیہ کا بھی موقف ہے۔''(زاد المعاد:١/٣٧٨)
حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ لکھتے ہیں:''یہاں نماز سے مانع نصف النھار کو نہیں بلکہ امام کے نکلنے کو نماز سے مانع قرار دیا گیا ہے۔تو معلوم ہو ا نصف النھار کے وقت جمعہ کے دن نماز پڑھنی مکروہ نہیں ہے۔''(احکام ومسائل:٢/٢٨٤)نیز فرماتے ہیں:''جمعہ کے روز بھی زوال ہوتا ہے ،البتہ جمعہ کے روز جمعہ پڑھنے والے جس وقت بھی مسجد میں پہنچیں ۔اس وقت سے لے کر خطبہ شروع ہونے تک جتنی ان کے مقدر میں پڑھ سکتے ہیں۔''(احکام و مسائل:٢/٣٣٩)
بیت اللہ میں ممنوعہ اوقات میں بھی نماز پڑھنا جائز ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''اے عبدمناف کی اولاد!بیت اللہ کا طواف کرنے والے کسی شخص کو منع نہ کرو اور نہ کسی نماز پڑھنے والے کو (نماز پڑھنے سے)خواہ وہ شب وروز کی کسی گھڑی میں یہ کام کرے۔''(ابوداؤد:١٨٩٤،اس کو امام ترمذی(٨٦٨)اور ابن حبان(الاحسان:٣/٤٦،ح:١٥٥٠)نے صحیح کہا ہے۔)
یہی موقف علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کا ہے۔(تحفۃ الاحوزی:٢/٩٥)
شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ:''عدمناف کی اولاد کو مخاطب اس لیے کیاہے کہ یہ اس وقت کعبہ کے متولی تھے۔(صلّٰی اَیَّۃَ سَاعَۃِِ شَائَ)یہ الفاظ ممنوعہ تین اوقات میں بھی نماز پڑھنے کی اجازت پر دلالت کرتے ہیںجن احادیث میں ممانعت ہے یہ حدیث اس عام حکم کو بیت اللہ کی وجہ سے خاص قرار دیتی ہے کہ بیت اللہ میں یہ ممانعت نہیں۔''(اتحاف الکرام شرح بلوغ المرام:١/١٣٢اردو)
تین اوقات میں گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا منع ہے
١:نماز فجر سے پہلے
٢:ظہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو
٣:اور عشاء کی نماز کے بعد(النور:٥٨)
وجہ یہ ہے کہ:''یہ تینوں وقت تمہاری خلوت اور پردہ کے ہیں۔''(النور:٥٨)
سبحان اللہ کتنا پیارا اسلام ہے مگر افسوس کہ مسلمان اس کی روشن تعلیمات پر عمل پھر بھی نہیں کرتے۔مذکورہ اصول پر عمل انتہائی ضروری ہے ورنہ حیاء کا جنازہ نکل جائے گا۔اللہ تعالی اس پر مسلمانوں کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
نوٹ:شام کے وقت کے احکام اور اس کے اذکار کے لیے دیکھیں''رات کے احکام''
اور صبح کے وقت کے احکام اور اس کے اذکار کے لیے دیکھیں''دن کے احکام''۔
6/07/2011
Subscribe to:
Posts (Atom)


